حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تاراگڑھ اجمیر راجستھان ہندوستان میں شہیدِ امت، رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تدفین کو چالیس دن مکمل ہونے پر مجلسِ چہلم، قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کا انعقاد کیا گیا؛ جس میں اہل علاقہ نے بھرپور شرکت کی۔
امام جمعہ تاراگڑھ حجت الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ"کی روشنی میں شہداء کی حیات پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ قرآن و احادیث کے مطابق شہداء زندہ ہیں، لیکن ان کی زندگی صرف ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ اپنی قربانی سے پوری امت کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔
خطیب مجلس نے مزید کہا کہ جب شہادت اور علم ایک شخص میں جمع ہو جائیں تو وہ دوہری حیات کا مالک بن جاتا ہے۔
1: پہلی حیات - شہادت کی زندگی:
شہید کے بارے میں قرآن کہتا ہے: "وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ"، شہید کو مردہ نہ سمجھو - وہ زندہ ہیں، اللہ کے پاس رزق پا رہے ہیں۔
یعنی: شہید کی زندگی ختم نہیں ہوتی، وہ ایک اور بلند زندگی میں داخل ہو جاتا ہے جو شہادت کی وجہ سے اسے ملتی ہے۔
2: دوسری حیات - معرفت (علم) کی زندگی:
علماء کے بارے میں کہا گیا: "وَالْعُلَمَاءُ بَاقُونَ مَا بَقِيَ الدَّهْرُ"، علماء جب تک زمانہ باقی ہے - زندہ اور باقی ہیں۔
یعنی: ایک عالم اپنے علم، لکھی ہوئی کتابوں، اور اپنے شاگردوں کے ذریعے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ اس کا علم اور اثر زمانوں تک باقی رہتا ہے۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی علمی، فقہی، اخلاقی اور عرفانی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں وہ فقاہت، اخلاق اور بصیرت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔
انہوں نے آیت اللہ بہجت اور آیت اللہ جوادی آملی جیسے اکابر علماء کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایسی عظیم شخصیات کسی کو "عارف باللہ" قرار دیں تو اس کے مقام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔"
امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ آج رہبرِ معظم انقلاب کی شہادت نے تشیع کو ہزار سال آگے کیا ہے۔ آج دنیا تشیع کی طرف متوجہ ہوگئی ہے۔ ہمیں علمی، فکری اور ثقافتی محاذوں پر پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہوشیاری کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول رہبرِ شہید ،شہادت کے مشتاق تھے لہٰذا خداوند متعال نے ان کی دیرینہ آرزو پوری کی اور دنیا کے بدترین اور انسان نما حیوانوں کے ہاتھوں روزے کی حالت میں شھادت کے عظیم مرتبہ پر فائر ہوئے۔ ان کی شہادت کے اثرات خطے اور عالمِ اسلام پر دور رس ہوں گے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ شہداء کے خون کی برکت سے خطہ بیرونی مداخلت سے پاک ہوگا اور اسلامی جمہوریہ ایران مزید مضبوط ہوگا۔
حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے مزید کہا کہ رہبرِ شہید کی پوری حیاتِ مبارکہ ایمان، اخلاص، تقویٰ، بصیرت، شجاعت اور استقامت کا روشن نمونہ ہے، آیت اللہ جوادی آملی نے رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی نمازِ جنازہ میں انہیں بلند ترین اسلامی اوصاف سے یاد کیا۔ ویسے تو شہید امت بہت سے اعلیٰ صفات کے حامل تھے لیکن ان میں سے بعض ایسے ہیں جو نماز جنازہ پر بیان کئے گئے، یہ تمام صفات ان کی پوری زندگی، دینی خدمات، اخلاص، مجاہدانہ کردار اور امتِ مسلمہ کے لیے دی گئی عظیم قربانی کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ رہبر شہید کی جدائی ہمارے لئے انتہائی تلخ ہے لیکن ان کی اس شہادت نے عالم اسلام میں نئی روح، نئی توانائی اور اسلام کی تجدید کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔ اس اعتبار سے یہ واقعہ امت مسلمہ کے لیے امید، بیداری اور استقامت کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مستقبل مستضعفین، مظلوموں اور محروم طبقات کا ہے اور رہبر شہید نے اپنی شہادت کے ذریعے اس وعدۂ الٰہی کی بہترین عملی مثال پیش کی۔









آپ کا تبصرہ